پاکستان اور ایشیا میں گدھ بچاؤ مہم                                             


      پاکستان اور ایشیا میں ڈیکلو فنیک نامی دوا پر پابندی کے بعد معدوم ہو جانے کے خطرے سے دوچار گدھوں کی افزائش نسل میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔ گدھ ماحولیاتی توازن برقرار اور ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں گِدھ کی نسل کو زہریلا گوشت کھانے کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہیں لیکن ڈیکلو فنیک نامی دوا پر پابندی کے بعد معدوم ہو جانے کے خطرے سے دوچار گدھوں کی افزائس نسل میں بہتری پیدا ہو رہی ہے۔ سن 2006ء میں جنوبی ایشیا میں ڈیکلو فنیک نامی دوا پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس وقت یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ مال مویشیوں کو دی جانے والی ڈیکلو فنیک نامی دوا کی وجہ سے پاکستان، بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش میں گزشتہ دس برسوں کے دوران گدھوں کی تعداد میں پچانوے فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے۔ ڈیکلو فنیک نامی دوا جانوروں میں، درد، سوزش کے علاج اور بیمار مویشیوں کی صحت یابی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
پاکستان میں سفید پشت والے گدھوں کی نسل کو بچانے کے لیے لاہور کے قریب چھانگا مانگا جنگلات میں ایک پروگرام جاری ہے۔ یہ پروگرام ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی مدد سے چلایا جا رہا ہے۔ اسی بین الاقوامی تنظیم کی مدد سے سن 2012ء میں صوبہ سندھ میں ایک پروگرام شروع کیا گیا تھا، جہاں ننگر پارکر میں ایک سو کلومیٹر کے علاقے کو ’محفوظ گدھ زون‘ قرار دیا گیا تھا۔
اعداد وشمار کے مطابق جنوبی ایشیا میں 1990ء کے بعد گِدھوں کی تعداد میں 97 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ گِدھوں کی اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی وجہ Diclofenac نامی دوائی کے وہ ذرات ہیں، جو پالتو جانوروں کی خوراک اور اجسام میں رہ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گدھوں کی خوراک مردہ جانور ہوتے ہیں اور مردہ جانوروں میں پائے جانے والے اس زہریلے مادے کی وجہ سے گدھوں کے گردے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ پاکستان، بھارت اور نیپال میں گِدھوں کی نو اقسام پائی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان میں سے متعدد معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈیکلو فنیک نامی دوا کے استعمال پر،پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور بھارت میں پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود اس کا غیر قانونی طریقے سے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے، جس سے گِدھوں کی بقا کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
پروگرام ’’ایشیاء کے گِدھوں کا بچاؤ‘‘ جنوبی ایشیا کی مقامی حکومتوں، ڈبلیو ڈبلیو ایف، برطانوی رائل سوسائٹی اور لند ن زولوجیکل سوسائٹی کے اشتراک سے شروع کیا گیا تھا۔                                                                                                                                           http//: www.dw.de/پاکستان-اور-ایشیا-میں.../a-17938525

ویانا: يورپی ملک آسٹريا کی حکومت نے قرآن پاک کا جرمن زبان ميں ترجمہ کرانے پرغور شروع کردیا ہے۔                             

آسٹريا کے وزير خارجہ سباسٹين کُرز نے مقامی ریڈیو چینل کو انٹرویو کے دوران کہا کہ  آسٹريا کے 140 مسلمان شہری شام اور عراق ميں جاری شدت پسند تحريک کا حصہ بن چکے ہيں، دہشت گرد عناصر اور ان کے ہمدرد قرآن کی بعض آيات کا غلط مفہوم پیش کرتے ہيں جس کا نقصان تمام مسلمانوں کو پہنچ رہا ہے، اس لئے موجودہ حکومت پارلیمنٹ میں ايک بل پيش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے ذريعے  قرآن کریم کا جرمن زبان ميں ترجمہ کرايا جائے گا۔ قرآن کریم کے ترجمے کا کام آسٹریا ہی میں مقیم عالم دین سرانجام دیں گے۔
واضح رہے کہ آسٹریا کی کل آبادی 83 لاکھ ہے جبکہ مسلمانوں کی تعداد 5 لاکھ سے زائد ہے۔
InayatUllah

    برقع یا بکینی:مغرب میں مسلم لڑکی کی  الجھن                                                              



                                                                                                 
                                                                    کامیڈی سٹیج شو ’برق آف‘ کہانی ہے مغربی ممالک میں پرورش پانے والی، نیویارک کے ایک آرٹ سکول سے فارغ التحصیل نادیہ منظور کی، جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔
شو کی کہانی کار، فنکار اور پیش کار نادیہ اس شو میں اپنے پانچ برس کی عمر سے لے کر بیس برس تک دو ثقافتی دنیاؤں اور اپنے گھر میں تضادات میں گھرے سفر کی کہانی بیان کرتی ہیں۔
گھر اور سکول سے لے کر یونیورسٹی تک کی زندگی کے مختلف مراحل میں جو مختلف کردار ان کی زندگی آتے اور جاتے رہے وہ سب کردار نادیہ نے خود ہی ادا کیے ہیں۔
نادیہ کہتی ہیں کہ ان کے گھر کا ماحول تضادات کا شکار تھا، مثلا نادیہ کے لیے والد کی ہدایات تھیں کہ وہ گھر سے باہر کسی لڑکے سے گفتگو نہ کریں۔
اس کے علاوہ نادیہ کی والدہ اپنی بیٹی کے ان پرتجسس سوالوں پر اسے مطمئن نہیں کر پاتی تھیں کہ جو کام اگر ایک لڑکی کے لیے غلط ہے تو اس کے بھائی کے لیے کیوں نہیں اور یہ کہ اس قسم کے اصول مذہب کے نام پر صرف لڑکیوں پر ہی کیوں تھوپے جاتے ہیں۔
نادیہ کے بقول ’گو کہ میں جھوٹ بولنا نہیں چاہتی تھی مگر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے مجھے اپنے والد سے جھوٹ بولنا پڑا۔‘
نادیہ اس معاشرے میں ضم ہونے کے وہ سب کچھ کرگزرتی ہے، جو مقامی ثقافت میں تو کوئی معیوب بات نہیں، مگر وہ اسلامی نکتہ نگاہ سےگناہ کی مرتکب ہوتی ہے۔
وہ یونیورسٹی میں اپنے آئرش دوست سے جنسی تعلقات قائم کر لیتی ہیں اور اپنی والدہ کے وفات کے بعد اس خوف سے اس کے والد اور بھائی عزت کے نام پر اسے ہلاک نہ کرڈالیں، گھر سے فرار ہو جاتی ہیں۔
شو دیکھتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا رہا ، نادیہ ہر اس بات کو چھیڑ رہی تھی جو یا تو خود میں نے بھی کسی مرحلے پر اپنی بیٹی سے کہی ہوگی یا دوسروں سے سنی تھی۔
"ایک آزاد منش مغربی معاشرے میں پروان پانے والی پاکستانی نثراد لڑکی نادیہ اپنی روایات کو فرسودہ جان کر ان کے خلاف علم بغاوت بلند کرتی ہے"
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یوں تو سٹیج شو ایک ایسی مسلم لڑکی کی آب بیتی ہے جو دو ثقافتوں اور اپنے ماحول کی منافقتوں کا شکار ہوئی، اور جس نے اپنے خاندان کی ان روایات کے خلاف بغاوت کا فیصلہ کیا جو مذہب کے نام پراس پر تھوپی جا رہی تھیں۔
لیکن یہ بہت سے ایسے گھروں اور خاندانوں کی کہانی بھی ہے جو ایک بہتر زندگی، روزگار اور اپنے بچوں کے لیے اچھی تعلیم کی غرض سے برطانیہ آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔
یہ لوگ اپنی اقدار کو اتنی مضبوطی سے گلے لگائے رہے کہ اکثر خاندان یہاں پلنے والی اپنی آئندہ نسلوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
بہت سے تارکین وطن نے اپنی شناخت قائم رکھنے کے لیے اپنے بچوں کو دو دنیاؤں میں رکھا۔ ایک باہر کی دنیا جو انھیں ہر قسم کی آزادیوں کے باعث بہت رنگین نظر آتی ہے اور ان کے گھر کی دنیا جہاں انھیں ہر مرحلے پر اپنے والدین اور خصوصاً والد کے طے کردہ اصولوں کے مطابق زندگی گزارنی ہوتی ہے۔
نادیہ نے اسی کشمکش کو اجاگر کیا ہے۔
کثیر ملکی ناظرین کے درمیان شو دیکھتے ہوئے میں نادیہ کی اداکاری، تخلیقی صلاحتیوں اور اپنی روایات کو ہنسی اڑانے کے انداز میں اپنے والد، بھائی، دوسرے عزیزوں اور دوستوں کے سامنے یوں بے باکی سے پیش کرنے پراس کی جرات کی داد دیے بغیر نہ رہ سکی۔
مگر ’برق آف‘ دیکھ کر مجھے یوں بھی لگا کہ شو محض بین الاقوامی مارکیٹ کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے۔
شو کا فوکس سیکس رہا کہ مسلم گھرانوں میں لڑکیوں کو صرف شادی کے لیے ایک جنسی شے کے طور پر تیار کیا جا تا ہے یا یہ کہ مسلم گھرانوں میں بچوں سے یا ان کے سامنے سیکس یا جنسی تعلقات پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ انھیں شادی سے قبل جنسی تعلقات قائم کرنے سے باز رکھا جاتا ہے۔ بچے چھپ چھپ کر اپنی جنسی تسکین کرتے ہیں اور بقول نادیہ کے اسی جنسی گھٹن کے باعث نئی نسل باغی ہورہی ہے۔
نادیہ نے مختلف کرداروں کی مدد سے اپنے ان تجربات کا ذکر کیا۔
ایسے شوز کے ذریعے اپنے معاشرتی تضادات کو سامنے لانا اور ان پر ہنسنا درست اور مذہب کے نام پر منافقتوں کو اجاگر کرنا ضروری صحیح مگر مغربی طرز معاشرت میں ضم ہونے کے لیے اپنی تہذیب کے بنیادی ’پیرامیٹرز‘ کی بےعزتی غیر مناسب لگی۔
اس قسم کے تخلیقی کامیڈی شوز اور ثقافتی ذریعے کو استعمال کر کے مغربی دنیا میں نئی نسل کے لیے دو مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک پل تعمیر کیا جا سکتا ہے اور اگر اس معیار پر پرکھا جائے تو یہ شو پورا اترتا نظر نہیں آیا۔

                                               اذان




اک رات ستاروں سے کہا نجم سحر نے 

آدم کو بھی دیکھا ہے کسی نے کبھی بیدار؟ 



کہنے لگا مریخ ، ادا فہم ہے تقدیر 

ہے نیند ہی اس چھوٹے سے فتنے کو سزاوار 



زہرہ نے کہا ، اور کوئی بات نہیں کیا؟ 

اس کرمک شب کور سے کیا ہم کو سروکار! 



بولا مہ کامل کہ وہ کوکب ہے زمینی 

تم شب کو نمودار ہو ، وہ دن کو نمودار 



واقف ہو اگر لذت بیداری شب سے 

اونچی ہے ثریا سے بھی یہ خاک پر اسرار 



آغوش میں اس کی وہ تجلی ہے کہ جس میں 

کھو جائیں گے افلاک کے سب ثابت و سیار 



ناگاہ فضا بانگ اذاں سے ہوئی لبریز 

وہ نعرہ کہ ہل جاتا ہے جس سے دل کہسار!

عمران خان اور طاہر القادری نے عوام کو نہ جانے کیا گھول کر پلا دیا ہے کہ جہاں جاؤ اورجس کو دیکھو وہ ملک میں انقلاب کی بات کرتا نظر آتاہے                                                                                                                     چاہے اس کو انقلاب لفظ کے معانی کا سرے سے پتہ ہی نہ ہو۔

ہر ذی شعور اور عقل مند شخص تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے مطالبات کو درست تسلیم کرتا ہے لیکن اُن مطالبات کی منظوری کے لئے اپنائے جانے والے طریقہ کار کو غلط قرار دیتا ہے۔
دو روز قبل میری ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کا حامی ہوں اور نہ ہی تحریک انصاف کا ووٹر لیکن اس بات کا کریڈٹ خان صاحب کو دوں گا کہ انھوں نے عوام میں سیاست کا کچھ شعور ضرور اجاگر کیا ہے اور اب لوگ اپنے حق کی بات بھی کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان ب باتوں کے باوجود اگر کوئی کراچی میں انقلاب کی بات کرے گا تو میرے خیال میں وہ دنیا کا سب سے بڑا بے وقوف شخص ہی ہو گا۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ بھائی آپ نے یہ کیا بات کردی تو جواب ملا کہ دیکھو، جب کراچی میں بجلی جاتی ہے تو ہم دوسری لائن سے کنڈا لگا لیتے ہیں اور اگر دوسری طرف کی لائٹ بھی چلی جاتی ہے تو ہم غیر قانونی طریقے سے گیس کے ذریعے جنریٹر چلا لیتے ہیں، نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی کسی میں اتنی ہمت ہے کہ کوئی ہم سے پوچھے کیوں کہ ہم کراچی میں رہتے ہیں  اور اگر ملک کے دیگر شہروں اور دیہات کی بات کی جائے تو وہ بھی بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔
اس کے بعد ان موصوف کا کہنا تھا کہ پورے شہر میں بمشکل 15 سے 20 فیصد ایسے ایماندار لوگ ہوں گے جو پانی اور بجلی کا بل باقاعدگی سے اور پورا ادا کرتے ہوں گے تو ہم پاگل ہیں کہ انقلاب کی بات کریں۔ اگر اس ملک میں انقلاب آ گیا، جس کے آنے کے دور دور تک آثار نہیں ہیں تو پھر جب لوڈ شیڈنگ ہو گی تو ہم بجلی کیسے چوری کریں گے اور پھر ہمیں پانی اور بجلی کے بل بھی پورے ادا کرنے پڑیں گے۔ میں نے اپنے دوست کی بات کاٹتے ہوئے کہا کہ بھائی جب انقلاب آئے گا تو ملک کے نظام میں بہتری بھی تو آئے گی اور لوڈ شیڈنگ بھی کم ہوا کرے گی نا تو اس پر جواب ملا کہ بھائی جاؤ اپنا کام کرو یہ افسانوی انقلاب کی باتیں کراچی میں تو ممکن نظر نہیں آتیں۔
اتبا بڑا لیکچر دینے کے بعد میرے انقلاب مخالف دوست نے بریک نہیں لگائی بلکہ ملک کی ابتر صورتحال پر ایک اور موضوع کو چھیڑدیا۔ کہنے لگے کہ ان کے ایک جاننے والے ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ 20 سال سے سرکاری اسکول میں ٹیچرکی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے  ہیں لیکن جب سے خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے تو ان کا معمول ہے کہ صبح ہوتے ہی عمران خان کے خلاف مغلظات بکنا شروع کرتے ہیں اور شام تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ اس حکومت کے آنے سے پہلےوہ  اسکول جائیں یا نہیں یہ اُن کی اپنی مرضی ہوا کرتی تھی اور جس دن اُن کی مرضی  اسکول کا رُخ کرنے کے لیے حامی بھرتی تھی اُس دن بھی وہ  جب دل چاہے واپس آ جاتے تھے غرض یہ کہ کوئی پوچھنے والا ہی نہیں تھا لیکن جب سے صوبے میں عمران خان کی حکومت بنی ہے تو  اُن کی  زندگی عذاب بن گئی ہے ۔ اب انہیں  روزانہ 5 کلومیٹر کا سفر پیدل طے کرکے اسکول جانا پڑتا ہے اور پھر تھمب امپریشن کی مدد سے آنے اور جانے کا ٹائم بھی نوٹ کرانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اُن کے مال مویشی سارا دن بھوکے پیاسے رہتے ہیں اور پھر جب میں واپس جاتا ہوں تو ان کی خدمت کرتا ہوں۔
اتنے بڑے لیکچر سننے کے بعد مجھے میری کمزوریوں کا بھی احساس ہوا اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اپنی دوست کی بات کی حمایت کرنی پڑی اور اُن سے کہا کہ واقعی کہا تو آپ نے درست ہی ہے کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی سرکاری نوکری ہو تاکہ وہ بھی اپنی مرضی سے دفتر جائے اور ہفتے میں 4 دن جائے یا  پھر پورا ہفتہ بھی غائب رہے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔
اگرچہ گزشتہ 67 کی خرابیوں نے مجھے بھی  غلطیوں اور خرابیوں کا پیکر بنا دیا ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا حکمران چور ہو تاکہ مجھے بھی چوری کا پورا اختیار ہو۔ لیکن یہ میرا ذاتی فائدہ ہے اِس ملک کا نہیں۔ اِس ملک میں رہنے والوں کی اکثریت اب بھی  ایسی زندگی گزاررہی ہے جو کسی سزا سے کم نہیں ہے۔ اگر چہ اُس اکثریت  کو کچھ کہنے کا حق نہیں دیا گیا مگر سوچنے پر کوئی پابندی نہیں لگاسکتا ۔ وہ آج بھی اِس وطن عزیز کو فلاحی ریاست بنتا دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہ سب کچھ روایتی  حکمرانوں کی موجودگی میں تو  مکمل طور پر ناممکن ہے ۔ لہذا میری عمران خان اور طاہر القادری سے ایک چھوٹی سی التجا ہے کہ خدارا لوگوں نے آپ سے اگر امیدیں باندھ ہی لی ہیں تو انھیں پچھلے حکمرانوں کی طرح مایوس مت کیجیئے گا کیونکہ اگر آپ دونوں نے بھی قوم کو مایوس کیا تو یہ نہ ہو کہ قوم کو آئندہ انقلاب کے نام سے بھی نفرت ہو جائے۔

                                         دوزخی کی مناجات

اس دیر کہن میں ہیں غرض مند پجاری
رنجیدہ بتوں سے ہوں تو کرتے ہیں خدا یاد

پوجا بھی ہے بے سود، نمازیں بھی ہیں بے سود
قسمت ہے غریبوں کی وہی نالہ و فریاد

ہیں گرچہ بلندی میں عمارات فلک بوس
ہر شہر حقیقت میں ہے ویرانۂ آباد

تیشے کی کوئی گردش تقدیر تو دیکھے
سیراب ہے پرویز، جگر تشنہ ہے فرہاد

یہ علم، یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارت
جو کچھ ہے، وہ ہے فکر ملوکانہ کی ایجاد

اللہ! ترا شکر کہ یہ خطہ پر سوز
سوداگر یورپ کی غلامی سے ہے آزاد

ایک نوجوان کے نام


ترے صوفے ہیں افرنگی ، ترے قالیں ہیں ایرانی 
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی 

امارت کیا ، شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل 
نہ زور حیدری تجھ میں ، نہ استغنائے سلمانی 

نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں 
کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی 

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں 
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں 

نہ ہو نومید ، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے 
امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں 

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر 
تو شاہیں ہے ، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
Tricks and Tips