1. جیو کاجھوٹ پکڑ اگیا، فل کورٹ ریفرنس کی فوٹیج کی انکوائری مکمل ، عبدالقیوم صدیقی ذمہ دارقراراسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی الوداعی فل کورٹ ریفرنس کی ویڈیو صرف ایک چینل تک محدود رہنے کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری مکمل کرلی جس کے مطابق جیو کے رپورٹر عبدالقیوم صدیقی نے عدلیہ کا احترام محلوظ خاطر رکھنے کا دعویٰ مسترد کردیا اور فوٹیج دیگر چینلوں تک نہ پہنچنے دی ۔مقامی میڈیا نے تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے بتایاکہ ٹی وی چینلز کو ریفرنس کی کوریج کی اجازت نہیں تھی، سپریم کورٹ انتظامیہ نے پرائیویٹ طورپر ویڈیو بنوائی اور دیگر میڈیا نمائندوں کو دینے کی یقین دہانی پر نجی ٹی وی کے صحافی کو دیدی گئی جس نے دیگر صحافیوں سے ویڈیو شیئر نہیں کی،جیو کی جانب سے ایکسکلوسیو طور پرویڈیو چلانے سے عدالتی انتظامیہ کو شرمندہ ہونا پڑا۔رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی کے صحافی نے کسی جواز کے بغیر ویڈیو اپنے پاس رکھی جبکہ دیگر صحافیوں نے اپنی
    ذمہ داریاں ایمانداری سے سرانجام دیں، صحافیوں نے ویڈیو حاصل کرنے کے لئے غیر قانونی کوشش نہیں کی۔یادرہے کہ دیگر ٹی وی چینلز کی طرف سے اُس وقت کی سپریم کورٹ انتظامیہ اور جیو کی ملی بھگت کا دعویٰ کیاگیاتھا اور احتجاج پر جیو کے نمائندہ خصوصی عبدالقیوم صدیقی کاکہناتھاکہ اُنہوں نے اپنے فرائض سرانجام دیئے ہیں جبکہ دیگر صحافی چائے پینے میں مصروف رہے جس کی وجہ سے وہ فوٹیج حاصل نہیں کرسکے جبکہ موجود چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا پہلا از خود نوٹس بھی اِسی فوٹیج سے متعلق تھا۔

Asyikin Haider: Hari pertama masuk sekolah 2012

Asyikin Haider: Hari pertama masuk sekolah 2012: Bulan_January                        Hari pertama aku meninjak kaki di SMK Matang Jaya aku rasa excited . Orang pertama aku kenal Iman Di...

(B)Aşka Türlü Şeyler: Aşkın bütün halleri...

(B)Aşka Türlü Şeyler: Aşkın bütün halleri...:   ' Aşkın bütün halleri... Tutkunun aklımızı ele geçirmesi... Kötülüğün en güzel hali... Rezil olmaktan duyduğumuz haz... Kırılan umutla...

Top Notch Web Portal Blog: Mohlat Taweel Ho To Pakar Sakht Hoti He by Orya Ma...

ایک مرتبہ حجاز کے گورنر کو راستے میں ایک بچہ ملا۔اس کا نام شعیب تھا گورنر نے بچے سے پوچھابچے کیا تجھے قرآت آتی ہے؟
بچے نے جواب دیا جی ہاں! والی حجاز نے کہا کچھ پڑھو بچے نے پڑھنا شروع کیا (إنا فتحنا لك فتحا مبينا ) اے نبی ہم نے آپ کو کھلی فتح عطاء کردی۔
امیر کو بچے کی اس موقع پہ یہ تلاوت بہت اچھی لگی چناچہ اس نے بچے کو ایک دینار دیا۔بچے نے دینار قبول کرنے سے انکار کردیا۔امیر نے دینار قبول نہ کرنے کی وجہ دریافت کی بچہ بولا کہ مجھے خوف ہے کہ میرے والدمجھے ماریں گے ۔ وہ سمجھیں گے کہ میں نے کہیں سے چوری کیا ہے
امیر نے کہا کہ اپنے والد سے کہہ دینا کہ یہ دینار گورنر نے دیا ہے۔بچے نے کہا کہ میری یہ بات میرا والد تسلیم نہیں کرے گا
گورنر نے پوچھا وہ کیوں؟
بچہ کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا:کیوں کہ ایک دینار بادشاہوں کا عطیہ نہیں ہوسکتا،امیر یہ سن کہ ہنس پڑا اور اسے ایک سو 100دینار عطیہ میں دینے کا حکم دیا۔
Tricks and Tips