ايک گائے اور بکري

                                        ايک گائے اور بکري
  • بہت پرانے زمانے میں ایک بادشا ہ تھا ، اس کا کوئی بیٹانہ تھا ۔ جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اسے فکر ہوئی کہ اس کے مرنے کے بعد تخت و تا ج کا وارث کون ہو گا ؟ لہذا ایک دن اس نے اپنے ملک میں اعلان کرایا کہ وہ ایک بچے کو گو د لینا چاہتا ہے جو بعد میں اس کے تخت و تا ج کا وارث ہو گا ۔ بچے کے انتخاب کے لیے یہ طریقہ بتا یا گیا کہ تمام ملک میں سے کچھ بچے منتخب کیئے گئے ہر بچے کو بیج دیا جا ئے گا ۔ جس بچے کے بو ئے ہوئے پو دے پر سب سے خوبصور ت پھول کھلے گا ، وہ بادشا ہ کا وا رث بنا دیا جا ئے گا ۔ سونگ چن نامی کا ایک لڑکا تھا ، اس نے بھی بادشاہ سے ایک بیج لیا اور اپنے گھر آکر ایک گملے میں بو دیا ۔ وہ ہر روز اسے پانی دیا کر تا تھا ، اسے امید تھی اس کے پودے پر سب سے زیا دہ خوبصور ت پھو ل کھلے گا ۔ دن گزر تے گئے مگر گملے میں سے کچھ بھی نکلا ۔ سو نگ چن کو بڑی فکر تھی۔ اس نے ایک اور گملا خریدا اور دور سے جا کر مٹی لایا اور اس بیج کو دو بارہ احتیا ط سے لگایا مگر دو مہینے گزر جانے پر بھی گملے میں سے کوئی پو دا نہ نکلا ۔ پلک جھپکتے میں پھو لو ں کی نمائش کا دن آ پہنچا ۔ سارے ملک کے بچے شاہی محل میں جمع ہوئے ۔ ہر ایک اپنے ہاتھو ں میں ایک گملا لیے ہوئے تھا ۔ گملو ں میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے ۔ وہ واقعی بڑے خوبصور ت تھے ۔ بادشا ہ پھو ل دیکھنے بچو ں کے پا س آیا۔ وہ ہر ایک خوبصورت پھول کو دیکھتا رہا مگر اسے کوئی پسند نہیں آرہا تھا ۔ چلتے چلتے اچانک اس کی نظر سونگ چن پر پڑی جو ایک خالی گملا لیے سر جھکائے کھڑا تھا ۔ سو نگ چن کے پاس جا کر رک گیا اور اس سے پو چھا : ”بیٹے ! تم خالی گملا لیے کیو ں کھڑے ہو ؟“ سونگ چن نے روتے ہوئے کہا : ” میں نے بیج گملے میں ڈالا تھا اور روزانہ پانی بھی دیتا تھا مگر اس سے اب تک کوئی پو دا نہیں اگا ، اس لیے خالی گملا لیے کھڑا ہو ں ۔“ بات سن کر باد شاہ ہنس پڑا ، اس نے کہا تم ایک سچے لڑکے ہو، مجھے اپنے تخت و تا ج کے لیے تم جیسے سچے لڑکے کی تلاش تھی ، تم ہی اس ملک کے با دشا ہ ہو گے ۔ “کیونکہ میں نے سب بچوں کو جو بیج دے تھے وہ ابلے ہوئے تھے ۔ خراب ہو چکے تھے اس لیے ان سے پودے کا اگنا ممکن ہی نہیں تھا ۔ دوسرے بچے اس لیے خوبصورت پھول کھلا نے میں کامیا ب ہو گئے تھے کہ انہوں نے اس خراب کی جگہ اچھے بیج بو ئے تھے مگر سونگ چن نے یہ غلط حرکت نہیں کی تھی اور جھو ٹ سے کا م نہیں لیا تھا ، لہذا اسے سچائی کا انعام مل گیا ۔

  1. جیو کاجھوٹ پکڑ اگیا، فل کورٹ ریفرنس کی فوٹیج کی انکوائری مکمل ، عبدالقیوم صدیقی ذمہ دارقراراسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی الوداعی فل کورٹ ریفرنس کی ویڈیو صرف ایک چینل تک محدود رہنے کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی نے انکوائری مکمل کرلی جس کے مطابق جیو کے رپورٹر عبدالقیوم صدیقی نے عدلیہ کا احترام محلوظ خاطر رکھنے کا دعویٰ مسترد کردیا اور فوٹیج دیگر چینلوں تک نہ پہنچنے دی ۔مقامی میڈیا نے تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے بتایاکہ ٹی وی چینلز کو ریفرنس کی کوریج کی اجازت نہیں تھی، سپریم کورٹ انتظامیہ نے پرائیویٹ طورپر ویڈیو بنوائی اور دیگر میڈیا نمائندوں کو دینے کی یقین دہانی پر نجی ٹی وی کے صحافی کو دیدی گئی جس نے دیگر صحافیوں سے ویڈیو شیئر نہیں کی،جیو کی جانب سے ایکسکلوسیو طور پرویڈیو چلانے سے عدالتی انتظامیہ کو شرمندہ ہونا پڑا۔رپورٹ کے مطابق نجی ٹی وی کے صحافی نے کسی جواز کے بغیر ویڈیو اپنے پاس رکھی جبکہ دیگر صحافیوں نے اپنی
    ذمہ داریاں ایمانداری سے سرانجام دیں، صحافیوں نے ویڈیو حاصل کرنے کے لئے غیر قانونی کوشش نہیں کی۔یادرہے کہ دیگر ٹی وی چینلز کی طرف سے اُس وقت کی سپریم کورٹ انتظامیہ اور جیو کی ملی بھگت کا دعویٰ کیاگیاتھا اور احتجاج پر جیو کے نمائندہ خصوصی عبدالقیوم صدیقی کاکہناتھاکہ اُنہوں نے اپنے فرائض سرانجام دیئے ہیں جبکہ دیگر صحافی چائے پینے میں مصروف رہے جس کی وجہ سے وہ فوٹیج حاصل نہیں کرسکے جبکہ موجود چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا پہلا از خود نوٹس بھی اِسی فوٹیج سے متعلق تھا۔

Asyikin Haider: Hari pertama masuk sekolah 2012

Asyikin Haider: Hari pertama masuk sekolah 2012: Bulan_January                        Hari pertama aku meninjak kaki di SMK Matang Jaya aku rasa excited . Orang pertama aku kenal Iman Di...
Tricks and Tips