پروفیسر کی بیگم اور طوطا
ایک پروفیسر کی بیگم نے پرندوں کی دوکان پر ایک طوطا پسند کیا اور اُس کی قیمت پوچھی۔ دوکاندار نے کہا محترمہ قیمت تو اس کی زیادہ نہیں ہے۔ لیکن یہ اب تک ایک طوائف کے کوٹھے پر رہا ہے۔ لہذٰا میرا خیال ہے اسے رہنے ہی دیں کوئی اور پرندہ دیکھ لیں۔ پروفیسر کی بیگم کو طوطا کچھ زیادہ ہی پسند آ گیا
۔کہنے لگیں بھئی اب اسے بھی تو پتہ چلے شریفوں کے گھر کیسے ہوتے ہیں۔ انہوں نے طوطے کی قیمت ادا کی اور پنجرہ لے لر گھر آ گئیں۔ پنجرے کو ڈرائنگ روم میں ایک مناسب جگہ لٹکایا تو طوطے نے ادھر اُدھر آنکھیں گھمائیں اور بولا واہ ، نیا کوٹھا یہ کوٹھا تو پسند آیا بھئی۔ بیگم کو اچھا تو نہیں لگا لیکن وہ خاموش رہیں۔ تھوڑی دیر بعد اُن کی بیٹیاں کالج سے لوٹ کر گھر آئیں تو انہیں دیکھ کر طوطا بولا، اوہ نئی لڑکیاں آئی ہیں بیگم کو غصّہ تو آیا لیکن پی گئیں یہ سوچ کر کہ ایک دو دن میں طوطے کو سدھا لیں گی۔ شام کو پرو فیسر صاحب اپنے وقت پر گھر لوٹے۔ جیسے ہی انہوں نے no ڈرائنگ روم میں قدم رکھا طوطا حیرت سے چیخاابے واہ جاوید تو یہاں بھی آتا ہے۔ اس کے بعد سے جاوید گھر سے غائب ہے۔ اور بیگم نے طلاق کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
۔
اگر کسی کو خاموشی کی آواز سننی ہو تو اسے ہرنائی سے سنجاوی جانے والی سڑک پر ضرور سفر کرنا چاہیے۔ کوئٹہ سے ہرنائی تک کا راستہ جتنا سفاک، پتھریلا اور بے مروت ہے، ہرنائی تا سنجاوی شاہراہ اتنی ہی سرسبز اور نشیلی ہے۔ مانو سبز کھردرے پہاڑوں کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے کا پورا راستہ قدرتی ائرکنڈیشنڈ ہے۔
اگرچہ میرا ڈرائیور اعلان کر چکا ہے کہ وہ لورالائی سے آگے میرا ساتھ نہیں دے گا کیونکہ جہاں جہاں میں جانا چاہتا ہوں وہ بہت خطرناک جگہیں ہیں۔ لیکن اس کی یہ دھمکی بھی مجھے ہرنائی تا سنجاوی راستے کا مزا لینے سے باز نہیں رکھ پا رہی۔ میں انتہائی اونچائی سے انتہائی نیچائی میں چرنے والی سینکڑوں بھیڑوں کو فریم میں تصویر کی طرح دیکھ سکتا ہوں۔ پہاڑی چشمے زمین کے گالوں پر آنسوؤں کی باریک باریک لکیروں کی طرح بہہ رہے ہیں۔ کبھی کبھار آوارہ بادل کا کوئی ٹکڑا بلا اجازت گاڑی کی ایک کھڑکی میں سے داخل ہوکر دوسری کھڑکی سے شریر بچوں کی طرح بھاگ جاتا ہے۔
سنجاوی چونکہ تراہا ( ٹی جنکشن) ہے لہذا اسے سیاسی جماعتوں اور موبائل کمپنیوں نے اپنی نعرے بازی کے لیے خوب استعمال کیا ہے۔ دیواروں نے بتایا کہ یہ مولانا فضل الرحمان کی مخالف جمعیت علمائے اسلام ( نظریاتی ) دھڑے کا علاقہ ہے مگر فضل الرحمان نواز بھی مزاحمت کررہے ہیں۔ ایک جگہ لکھا ہوا ہے ’دو ملک ایک طوفان، ملا عمر اور فضل الرحمان‘ ۔۔۔سامنے کی دیوار پر درج ہے ’دو ملک دو رہبر مولوی عصمت اللہ، ملا عمر‘۔۔۔ دھڑے بندی کے باوجود ملا عمر مشترک ہیں۔
اونچائی سے نیچے کی طرف آنے والی بل دار سیاہ لکیروں پر مال بردار ٹرک کھلونے سے لگ رہے ہیں۔سڑک کے دورویہ مسلسل پیچھے بھاگنے والی پانچ پانچ فٹ اونچی جنگلی گھاس تیز ہوا کے سبب دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں یوں گول گول جھوم رہی ہے جیسے کوئی عورت کھلے بالوں کسی درگاہ پر دھمال کھیل رہی ہو۔
پھر سڑک اور نشہ دونوں اترائی کی طرف جانے لگے۔ سنجاوی قصبے کے آثار نمایاں ہونے لگے۔کونسا قصبہ بڑا ہے یا چھوٹا۔پہلے کسی راہ چلتے مقامی سے پوچھنا پڑتا تھا۔اب تو بہت آسان ہے۔جہاں موبائل فون کمپنی کا ایک آدھ ٹاور دکھائی دے سمجھ لیجیے چھوٹا قصبہ ہے۔ جہاں چار پانچ نظر آئیں ، سمجھ لیجئے کہ کم ازکم پندرہ ہزار کی آبادی تو ہوگی۔
سنجاوی پھلوں کے باغات سے مالامال علاقہ ہے۔ ہرنائی سے یہاں آنے والی سڑک اگر دائیں مڑے تو لورالائی کی جانب راستہ جا رہا ہے۔ بائیں مڑے تو زیارت اور کوئٹہ ہے۔ اور اگر دائیں مڑ کر پھر بائیں مڑ جائیں تو لورالائی کی تحصیل دکی اور پھر کوہلو تک سڑک جا رہی ہے یا آرہی ہے۔
سنجاوی چونکہ تراہا ( ٹی جنکشن) ہے لہذا اسے سیاسی جماعتوں اور موبائل کمپنیوں نے اپنی نعرے بازی کے لیے خوب استعمال کیا ہے۔ دیواروں نے بتایا کہ یہ مولانا فضل الرحمان کی مخالف جمعیت علمائے اسلام ( نظریاتی ) دھڑے کا علاقہ ہے مگر فضل الرحمان نواز بھی مزاحمت کررہے ہیں۔ ایک جگہ لکھا ہوا ہے ’دو ملک ایک طوفان، ملا عمر اور فضل الرحمان‘ ۔۔۔سامنے کی دیوار پر درج ہے ’دو ملک دو رہبر مولوی عصمت اللہ، ملا عمر‘۔۔۔ دھڑے بندی کے باوجود ملا عمر مشترک ہیں۔
اس فضا سے موبائل کمپنیاں زبردست کمرشل فائدہ اٹھا رہی ہیں
اس فضا سے موبائل کمپنیاں زبردست کمرشل فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ایک دیوار پر یہاں سے وہاں تک سرخ اور نیلے دائروں کے درمیان لکھا ہے۔
زونگ۔۔۔۔سب کہہ دو۔۔۔۔سبحان اللہ ۔۔۔۔سب کہہ دو
ایک دیوار پر لکھا ہے۔۔۔وارد ۔۔۔سعودی عرب کا نیٹ ورک
ایک اور دیوار پر درج ہے۔۔۔۔وارد کنکشن ۔۔۔نماز قائم کرو۔۔
مجھے یقین ہے کہ اگر ٹیکنالوجی اجازت دے تو یہ سیلولر کمپنیاں باریش موبائل فونز کا ایک لمیٹڈ ایڈیشن بھی لے آئیں لیکن ہر شے کی ایک لمٹ ہوتی ہے۔
میڈیا پہاڑی علاقوں کے سیلاب کو سیلاب ہی نہیں سمجھتا۔ میڈیا کے خیال میں جہاں ایک ایک مہینے تک پانچ پانچ فٹ پانی نہ کھڑا ہو اور ہزاروں لوگ ایک ہی جگہ پھنس نہ جائیں وہ سیلاب نہیں ہوتا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پہاڑی نالوں کا سیلاب ایک آبی خنجر کی طرح ہوتا ہے جو علاقے کی گردن کاٹتا ہوا ترائی میں غائب ہو جاتا ہے جبکہ دریائی سیلاب اس اژدھے کی طرح ہوتا ہے جو شکار کو آہستہ آہستہ بل دے کر مارتا ہے۔ اژدھے کو دیکھ کر آپ کم ازکم بھاگنے کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن پہاڑی نالے کے خنجر سے تو آپ بچ ہی نہیں سکتے۔وہاں تو وارننگ ٹائم ہی زیرو ہوتا ہے۔
امانت حسین،صحافی
ڈیڑھ گھنٹے کے مزید سفر کے بعد میں سطح سمندر سے چار ہزار سات سو فٹ کی بلندی پر واقع لورالائی شہر میں داخل ہوگیا۔ شہر کا نقشہ اور ماحول خاصا چھاؤنیانہ ہے۔ انگریزوں نے اٹھارہ سو اسی کے عشرے میں اپنی چھاؤنی دکی سے یہاں منتقل کردی تھی کیونکہ فوجی اہمیت کے اعتبار سے لورالائی براستہ ژوب افغانستان سے آنے والے ، براستہ فورٹ منرو پنجاب جانے والے ، براستہ دکی کوہلو جانے والے اور براستہ زیارت کوئٹہ سے آنے والے راستے پر ایک اہم جنکشن بناتا ہے۔ان دنوں یہ نیم فوجی فرنٹیر کور کا علاقائی ہیڈکوارٹر ہے۔
لورالائی انیس سو تین سے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہے۔ اس میں مختلف علاقے شامل ہوتے اور نکلتے رہے ۔ان دنوں یہ چار تحصیلوں لورالائی ،بوری میختر ، دکی اور دکی کی سب تحصیل سنجاوی پر مشتمل ہے۔ضلع کی آبادی ایک ملین کے لگ بھگ ہے۔اکثریتی قبائل میں کاکڑ، لونی، ناصر اور ترین شامل ہیں۔
مجھے گورنمنٹ ڈگری کالج لورالائی کے سابق پرنسپل فضل داد خان نے بتایا کہ لورالائی نام انگریزوں کے دور میں رکھا گیا۔نیا شہر بسنے سے پہلے یہاں بھیڑ بکریاں پالنے والے قبیلے آباد تھے اور اسی میل طویل پورا علاقہ وادی بوری کے نام سے جانا جاتا تھا لیکن انگریزوں نے لائی نامی پہاڑی نالے کے نام پر نئے شہر کی بنیاد ڈالی۔لورا لائی ( لائی ندی کا کنارہ)۔
لورالائی انیس سو تین سے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہے۔
لورالائی میں قدیم ترین آبادی کے آثار موجود شہر سے بارہ کلومیٹر پرے رانا غنڈئی میں ملے ہیں۔جس طرح ژوب شہر سے دو کلومیٹر دور پان غنڈئی اور دکی کے قریب مغل غنڈئی کے آثار ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں لوہے کے دور ( آئرن ایج) میں محدود آبادیاں قائم ہو چکی تھیں۔ لیکن پہاڑی نالوں میں طغیانی کے سبب یہ آبادیاں تاریخ کے اوراق پر ابھرتی مٹتی رہیں۔رانا غنڈئی کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ یہ سات مرتبہ آباد اور سات مرتبہ برباد ہوا۔روم ہو کہ دلی کہ لاہور کہ رانا غنڈئی ۔یہ آخر سب سات مرتبہ ہی کیوں آباد یا برباد ہوتے ہیں بھائی صاحب ؟؟؟
انگریزوں کی آمد سے قبل ژوب سے سبی تک کا وسیع علاقہ تھل چوٹیالی کہلاتا تھا۔ پھر اسے سبی ضلع کے ذریعے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس کے پیچھے غالباً یہ سوچ تھی کہ بلوچوں اور پشتونوں سے اگر الگ الگ نمٹا جائے تو حکمرانی میں آسانی رہے گی۔موجود ژوب ڈویژن چھ اضلاع پر مشتمل ہے۔قلعہ سیف اللہ ، ژوب، شیرانی ، موسی خیل ، بارکھان اور لورالائی۔
پروفیسر فضل داد خان ( موصوف کاکول اکیڈمی میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے موجودہ سربراہ جنرل طارق مجید کے ہم سال بھی رھ چکے ہیں لیکن اس بات کی تشہیر سے ہچکچاتے ہیں) سے ملاقات کے بعد میں ژوب ڈویژن کے کمشنر میر اختیار خان بنگلزئی کے ہاں پہنچا۔ چار پانچ موبائیل کالز اٹینڈ کرنے اور اپنے ماتحت دو ڈپٹی کمشنروں سے فون پر تحکمانہ عاجزی کا مظاہرہ کرنے کے بعد انہوں نے مجھے ژوب ڈویژن کا سیلابی نقشہ سمجھایا۔
آپ کو پورے ڈویژن میں کہیں بھی کوئی خیمہ بستی دکھائی نہیں دے گی۔کیونکہ ایک تو یہاں لوگ دور دور آباد ہیں۔دوسرے یہ کہ مقامی روایات کے تحت اپنا گھر چھوڑنا عمومی طور پر پسند نہیں کیا جاتا۔لوگ اپنی جگہ پر ہی خیمے، ادویات ، راشن اور مالی امداد کی توقع رکھتے ہیں۔
میر اختیار خان بنگلزئی، کمشنر ژوب ڈویژن
بقول بنگلزئی صاحب ’بارشوں اور پہاڑی نالوں کی طغیانی کے سبب چھ اضلاع میں ایک لاکھ پچانوے ہزار کے قریب لوگ جزوی یا کلی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔لگ بھگ اسی فیصد کھڑی فصلیں ختم ہوئی ہیں۔لورالائی ڈیرہ غازی خان روڈ پر سو سے زائد پولٹری فارم بہہ گئے۔سب سے زیادہ مار لورالائی کی دکی تحصیل ، ضلع بارکھان اور موسی خیل کو پڑی۔لورالائی سے پنجاب براستہ فورٹ منرو جانے والا راستہ کئی روز تک کٹا رہا۔ژوب سے ڈیرہ اسماعیل خان جانے والا راستہ بھی پہاڑی تودے گرنے کے سبب بارہ دن بند رہا۔
بارشوں اور سیلابوں کا یہ سلسلہ بیس جولائی سے چودہ پندرہ اگست تک جاری رہا۔بظاہر آپ کو پورے ڈویژن میں کہیں بھی کوئی خیمہ بستی دکھائی نہیں دے گی۔کیونکہ ایک تو یہاں لوگ دور دور آباد ہیں۔دوسرے یہ کہ مقامی روایات کے تحت اپنا گھر چھوڑنا عمومی طور پر پسند نہیں کیا جاتا۔لوگ اپنی جگہ پر ہی خیمے، ادویات ، راشن اور مالی امداد کی توقع رکھتے ہیں۔
شروع میں چھ اضلاع پر مشتمل پورے ڈویژن کے لیے محض پندرہ لاکھ روپے کا امدادی فنڈ موجود تھا۔بعد میں مزید ایک کروڑ روپیہ مل گیا۔لیکن ضلعی انتظامیہ ، فوج، لورالائی سکاؤٹس اور نیم سرکاری ترقی فاؤنڈیشن نے مربوط انداز میں لوگوں کو بچانے کی کوششیں کیں۔‘
گوبھی یا ٹماٹر کے ایک ایکڑ پر پچاس سے ساٹھ ہزار روپے خرچہ آتا ہے اور فصل سے ڈھائی تا تین لاکھ روپے فی ایکڑ آمدنی ہوجاتی ہے۔لیکن شدید بارشوں نے اس مرتبہ گوبھی کو اجاڑ دیا۔اور جو فصل تیار بھی تھی وہ راستے بند ہونے کے سبب کھیتوں ، بوریوں یا ٹرکوں کے اندر ہی گل سڑ گئی۔ ایک ہفتہ تو ایسا بھی آیا کہ گوبھی کا پچیس کلو کا چھ سو روپے کا تھیلہ تیس روپے میں بھی کوئی نہیں اٹھا رہا تھا۔ ٹماٹر کا دس کلوگرام کا کریٹ ساڑھے چار سو روپے سے گر کر پچاس روپے تک آ گیا لیکن اب اس کی قیمت دو سو روپے تک بحال ہوگئی ہے۔
امانت حسین
ایک زمانہ تھا کہ لورالائی کا خطہ اپنی کاریزوں کے سبب مشہور تھا۔لیکن یہ کاریزیں انیس سو چھیانوے کے بعد سے شروع ہونے والی خشک سالی نے ختم کردیں۔ لوگوں نے سیب اور بادام کے باغات بھی کاٹ ڈالے اور ان کی جگہ سبزیوں بالخصوص گوبھی اور ٹماٹر کی کاشت بڑھا دی۔ سبزیوں کی کاشت اس علاقے میں افغان مہاجرین کی آمد سے پہلے بہت کم ہوتی تھی۔انہی کی دیکھا دیکھی مقامی کاشت کاروں نے بھی سوچا کہ سبزیوں کی اگائی کم زمین سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے کا بڑا اچھا طریقہ ہے۔
کمشنر بنگلزئی کے ساتھ ملاقات میں موجود مقامی صحافی امانت حسین نے بتایا کہ گوبھی یا ٹماٹر کے ایک ایکڑ پر پچاس سے ساٹھ ہزار روپے خرچہ آتا ہے اور فصل سے ڈھائی تا تین لاکھ روپے فی ایکڑ آمدنی ہوجاتی ہے۔لیکن شدید بارشوں نے اس مرتبہ گوبھی کو اجاڑ دیا۔اور جو فصل تیار بھی تھی وہ راستے بند ہونے کے سبب کھیتوں ، بوریوں یا ٹرکوں کے اندر ہی گل سڑ گئی۔ ایک ہفتہ تو ایسا بھی آیا کہ گوبھی کا پچیس کلو کا چھ سو روپے کا تھیلہ تیس روپے میں بھی کوئی نہیں اٹھا رہا تھا۔ ٹماٹر کا دس کلوگرام کا کریٹ ساڑھے چار سو روپے سے گر کر پچاس روپے تک آ گیا لیکن اب اس کی قیمت دو سو روپے تک بحال ہوگئی ہے۔
کمشنر بنگلزئی نے کہا کہ ’اس وقت بھی لوگ راشن ، چینی، چائے اور پانی جیسی مدد بھیج رہے ہیں حالانکہ یہ اشیا سیلاب کے پہلے مرحلے کے لیے تو کارآمد تھیں دوسرے مرحلے کے لیے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اب سردیاں آرہی ہیں تو گرم کپڑے چاہیئیں۔ جس کی مرغی ، بھیڑ، بکری یا گائے مرگئی ہے اسے نقد پیسے دینے کے بجائے اگر آپ کچھ مرغیاں ، دو چار بکریاں یا ایک آدھ گائے دے دیں۔ فصل کے لیے بیج یا کھاد کا انتظام کردیں تو متاثرہ لوگوں کی زیادہ بہتر مدد ہوسکتی ہے۔دودھ ، چینی ، آٹا ، چاول ہمیں بہت مل گیا ہے۔لیکن اگر امداد کرنے والوں کو ہم یہ بات سمجھانے کی کوشش کریں تو الٹا ناراض ہوجاتے ہیں‘۔
اس وقت بھی لوگ راشن ، چینی، چائے اور پانی جیسی مدد بھیج رہے ہیں حالانکہ یہ اشیا سیلاب کے پہلے مرحلے کے لیے تو کارآمد تھیں دوسرے مرحلے کے لیے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اب سردیاں آرہی ہیں تو گرم کپڑے چاہیئیں۔ جس کی مرغی ، بھیڑ، بکری یا گائے مرگئی ہے اسے نقد پیسے دینے کے بجائے اگر آپ کچھ مرغیاں ، دو چار بکریاں یا ایک آدھ گائے دے دیں۔ فصل کے لیے بیج یا کھاد کا انتظام کردیں تو متاثرہ لوگوں کی زیادہ بہتر مدد ہوسکتی ہے۔دودھ ، چینی ، آٹا ، چاول ہمیں بہت مل گیا ہے۔لیکن اگر امداد کرنے والوں کو ہم یہ بات سمجھانے کی کوشش کریں تو الٹا ناراض ہوجاتے ہیں‘۔
کمشنر ژوب ڈویژن
صحافی امانت حسین نے شکوہ کیا کہ میڈیا پہاڑی علاقوں کے سیلاب کو سیلاب ہی نہیں سمجھتا۔ میڈیا کے خیال میں جہاں ایک ایک مہینے تک پانچ پانچ فٹ پانی نہ کھڑا ہو اور ہزاروں لوگ ایک ہی جگہ پھنس نہ جائیں وہ سیلاب نہیں ہوتا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پہاڑی نالوں کا سیلاب ایک آبی خنجر کی طرح ہوتا ہے جو علاقے کی گردن کاٹتا ہوا ترائی میں غائب ہو جاتا ہے جبکہ دریائی سیلاب اس اژدھے کی طرح ہوتا ہے جو شکار کو آہستہ آہستہ بل دے کر مارتا ہے۔ اژدھے کو دیکھ کر آپ کم ازکم بھاگنے کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن پہاڑی نالے کے خنجر سے تو آپ بچ ہی نہیں سکتے۔وہاں تو وارننگ ٹائم ہی زیرو ہوتا ہے۔
کوئی ایک گھنٹے کی گفتگو اور بریفنگ کے بعد کمشنر بنگلزئی نے اسی نوے برس پرانے بنگلے کے مختلف حصے دکھائے۔ پرانی طرز کے موٹے موٹے کالے سوئچوں والے لکڑی کے الیکٹرک بورڈز ، خالص لکڑی کی وارنش شدہ اوریجنل ٹیکسچر والی چھتیں۔ان میں سے دوتین پر کسی پچھلے جاہل رہائشی نے غالباً یہ سمجھ کر سفید پینٹ کروادیا کہ انگریز جلدی میں ان چھتوں پر رنگ کروانا بھول گیا ہوگا۔ ایک سو برس سے زائد مدت کا بنا ہوا لنکاسٹر پیانو بھی کمشنر ہاؤس میں موجود ہے۔یہ پیانو بھی کوئی افسر تبادلے کے سامان میں بندھوا کر ایک دفعہ اپنے ساتھ لے جاچکا ہے۔اسے بڑی مشکل سے بازیاب کروایا گیا۔مگر فائدہ کیا۔نہ کوئی بجاتا ہے۔نہ سنتا ہے۔۔۔۔بس روزانہ کپڑا مار کر چمکا دیا جاتا ہے۔۔۔
میں اب اریگیشن ریسٹ ہاؤس میں تنہا بیٹھا ہوں۔ ایک صحافی عالمگیر موسٰی خیل کا فون آچکا ہے کہ اگر میں چاہوں تو وہ صبح میرے ساتھ موسٰی خیل جا سکتا ہے۔ ڈرائیور سے میرے مذاکرات ناکام ہوچکے ہیں اور میں نے اسے کہہ دیا ہے کہ اگر وہ آگے نہیں جاتا تو پھر کوئٹہ واپس چلا جائے۔ میں صبح کوئی اور انتظام کرلوں گا۔ویسے بھی اب مجھے اس کاہل کو ساتھ رکھنے میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔بس مجھے ایک صحافی امیر محمد خان غلزئی کو فون کرنا ہے اور صبح گاڑی کا انتظام غالباً ہوجائے گا۔ لیکن جانا کہاں ہے۔لورالائی کی سب سے متاثرہ تحصیل دکی یا دور ازکار و دراز موسذی خیل۔۔۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس پر میں صبح غور کرلوں۔کیا ہربات سونے سے پہلے طے کرنا ضروری ہے اے فضول انسان۔۔۔۔
علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا۔ سلوتریوں سے دریافت کیا۔ خود سرکھپاتے رہے۔ لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کافائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجئے دودھ دیتی ہے۔ بکری کو لیجئے، دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی۔ یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم ليے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے۔تو ہم لنڈورے ہی بھلے، کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آکر طرح کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کردیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔ اس پر شمال مشرق کی طرف ایک قدر شناس کتےنے زوروں کی داد دی۔ اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہواکہ کچھ نہ پوچھئے، کم بخت بعض تو دو غزلے سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے، وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ "آرڈر آرڈر" پکارا لیکن کبھی ایسے موقعوں پر پر دھان کی بھی کوئی بھی نہیں سنتا۔ اب ان سے کوئی پوچھئے کہ میاں تمہیں کوئی ایسا ہی ضروری مشاعرہ کرنا تھا تو دریا کے کنارے کھلی ہوا میں جاکر طبع آزمائی کرتے یہ گھروں کے درمیان آکر سوتوں کو ستانا کون سی شرافت ہے۔
اورپھر ہم دیسی لوگوں کے کتے بھی کچھ عجیب بدتمیز واقع ہوئے ہیں۔ اکثر تو ان میں ایسے قوم پرست ہیں کہ پتلون کوٹ کو دیکھ کر بھونکنے لگ جاتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک حد تک قابل تعریف بھی ہے۔ اس کا ذکر ہی جانے دیجیئے اس کے علاوہ ایک اور بات ہے یعنی ہمیں بارہا ڈالیاں لے کر صاحب لوگوں کے بنگلوں پر جانے کا اتفاق ہوا، خدا کی قسم ان کے کتوں میں وہ شائستگی دیکھی ہے کہ عش عش کرتے لوٹ آئے ہیں۔ جوں ہی ہم بنگلے کے اندر داخل ہوئے کتے نے برآمدے میں کھڑے کھڑے ہی ایک ہلکی سی "بخ" کردی اور پھر منہ بند کرکے کھڑا ہوگیا۔ہم آگے بڑھے تو اس نے بھی چار قدم آگے بڑھ کر ایک نازک اور پاکیزہ آواز میں پھر "بخ" کردی۔ چوکیداری کی چوکیداری موسیقی کی موسیقی۔ ہمارے کتے ہیں کہ نہ راگ نہ سُر۔ نہ سر نہ پیر۔ تان پہ تان لگائے جاتے ہیں، بےتالے کہیں کے نہ موقع دیکھتے ہیں، نہ وقت پہنچانتے ہیں، گل بازی کيے جاتے ہیں۔ گھمنڈ اس بات پر ہے کہ تان سین اسی ملک میں تو پیدا ہوا تھا۔
اس میں شک نہیں کہ ہمارے تعلقات کتوں سے ذرا کشیدہ ہی رہے ہیں۔ لیکن ہم سے قسم لے لیجیئے جو ایسے موقع پر ہم نے کبھی سیتا گرہ سے منہ موڑا ہو۔ شاید آپ اس کو تعلّی سمجھیں لیکن خدا شاہد ہے کہ آج تک کبھی کسی کتے پر ہاتھ اُٹھ ہی نہ سکا۔ اکثر دوستوں نے صلاح دی کہ رات کے وقت لاٹھی چھڑی ضرور ہاتھ میں رکھنی چاہیئے کہ دافع بلیات ہے لیکن ہم کسی سے خواہ مخواہ عداوت پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ کتے کے بھونکتے ہی ہماری طبعی شرافت ہم پر اس درجہ غلبہ پا جاتی ہے کہ آپ اگر ہمیں اس وقت دیکھیں تو یقیناً یہی سمجھیں گے کہ ہم بزدل ہیں۔ شاید آپ اس وقت یہ بھی اندازہ لگا لیں کہ ہمارا گلا خشک ہوا جاتا ہے۔ یہ البتہ ٹھیک ہے ایسے موقع پر کبھی گانے کی کوشش کروں تو کھرج کے سُروں کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔ اگر آپ نے بھی ہم جیسی طبیعت پائی ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے موقع پر آیت الکرسی آپ کے ذہن سے اُتر جائے گی اس کی جگہ آپ شاید دعائے قنوت پڑھنے لگ جائیں۔
بعض اوقات ایسا اتفاق بھی ہوا ہے کہ رات کے دو بجےچھڑی گھماتے تھیٹر سے واپس آرہے ہیں اور ناٹک کے کسی نہ کسی گیت کی طرز ذہن میں بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں چونکہ گیت کے الفاظ یاد نہیں اور نومشقی کا عالم بھی ہے اس ليے سیٹی پر اکتفا کی ہے کہ بےسرے بھی ہوگئے تو کوئی یہی سمجھے گا کہ انگریزی موسیقی ہے، اتنے میں ایک موڑ پر سے جو مڑے تو سامنے ایک بکری بندھی تھی۔ ذرا تصور ملاحظہ ہو آنکھوں نے اسے بھی کتا دیکھا، ایک تو کتا اور پھر بکری کی جسامت کا۔ گویا بہت ہی کتا۔ بس ہاتھ پاؤں پھول گئے چھڑی کی گردش دھیمی دھیمی ہوتے ہوتے ایک نہایت ہی نامعقول، زاوئیے پر ہوا میں کہیں ٹھہر گئی۔ سیٹی کی موسیقی بھر تھرتھرا کر خاموش ہوگئی لیکن کیا مجال جو ہماری تھوتھنی کی مخروطی شکل میں ذرا بھی فرق آیا ہو۔گویا ایک بےآواز لَے ابھی تک نکل رہی ہے ۔طب کا مسئلہ ہے کہ ایسے موقعوں پر اگر سردی کے موسم میں بھی پسینہ آجائے تو کوئی مضائقہ نہیں بعد میں پھر سوکھ جاتا ہے۔
چونکہ ہم طبعاً ذرا محتاط ہیں۔ اس ليے آج تک کتے کے کانٹے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ یعنی کسی کتے نے آج تک ہم کو کبھی نہیں کاٹا اگر ایسا سانحہ کبھی پیش آیا ہوتا تو اس سرگزشت کی بجائے آج ہمارا مرثیہ چھپ رہا ہوتا۔ تاریخی مصرعہ دعائیہ ہوتا کہ "اس کتے کی مٹی سے بھی کتا گھاس پیدا ہو" لیکن۔۔۔
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے سگ رہ بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
جب تک اس دنیا میں کتے موجود ہیں اور بھونکنے پر مصُر ہیں سمجھ لیجئے کہ ہم قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں اور پھر ان کتوں کے بھونکنے کے اصول بھی تو کچھ نرالے ہیں۔ یعنی ا یک تو متعدی مرض ہے اور پھر بچوں اور بوڑھوں سب ہی کو لاحق ہے۔ اگر کوئی بھاری بھرکم اسفندیار کتا کبھی کبھی اپنے رعب اور دبدبے کو قائم رکھنے کے ليے بھونک لے تو ہم بھی چاروناچار کہہ دیں کہ بھئی بھونک۔ (اگرچہ ایسے وقت میں اس کو زنجیر سے بندھا ہونا چاہئیے۔) لیکن یہ کم بخت دو روزہ، سہ روزہ، دو دو تین تین تولے کے پلے بھی تو بھونکنے سے باز نہیں آتے۔ باریک آواز ذراسا پھیپھڑا اس پر بھی اتنا زور لگا کر بھونکتے ہیں کہ آواز کی لرزش دُم تک پہنچتی ہے اور پھر بھونکتے ہیں چلتی موٹر کے سامنےآکر گویا اسے روک ہی تو لیں گے۔ اب اگر یہ خاکسار موٹر چلا رہا ہوتو قطعاً ہاتھ کام کرنے سے انکار کردیں لیکن ہر کوئی یوں ان کی جان بخشی تھوڑا ہی کردے گا؟
کتوں کے بھونکنے پر مجھے سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ ان کی آواز سوچنے کے تمام قویٰ معطل کردیتی ہے خصوصاً جب کسی دکان کے تختے کے نیچے سے ان کا ایک پورا خفیہ جلسہ باہر سڑک پر آکر تبلیغ کا کام شروع کردے تو آپ ہی کہیے ہوش ٹھکانے رہ سکتے ہیں؟ ہر ایک کی طرف باری باری متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ کچھ ان کا شور، کچھ ہماری صدائے احتجاج (زیرلب) بےڈھنگی حرکات وسکنات (حرکات ان کی، سکنات ہماری۔) اس ہنگامے میں دماغ بھلا خاک کام کرسکتا ہے؟ اگرچہ یہ مجھے بھی نہیں معلوم کہ اگر ایسے موقع پر دماغ کام کرے بھی تو کیا تیر مارلے گا؟ بہرصورت کتوں کی یہ پرلےدرجے کی ناانصافی میرے نزدیک ہمیشہ قابل نفرین رہی ہے۔ اگر ان کا ایک نمائندہ شرافت کے ساتھ ہم سے آکر کہہ دے کہ عالی جناب، سڑک بند ہے تو خدا کی قسم ہم بغیر چون وچرا کئے واپس لوٹ جائیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہم نے کتوں کی درخواست پر کئی راتیں سڑکیں ناپنے میں گزاردی ہیں لیکن پوری مجلس کا یوں متفقہ و متحدہ طور پر سینہ زوری کرنا ایک کمینہ حرکت ہے (قارئین کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر ان کا کوئی عزیزومحترم کتا کمرے میں موجود ہو تو یہ مضمون بلند آواز سے نہ پڑھا جائے مجھے کسی کی دل شکنی مطلوب نہیں۔)
خدا نے ہر قوم میں نیک افراد بھی پیدا کئے ہیں۔ کتے اس کے کلئے سے مستثنیٰٰ نہیں۔ آپ نے خدا ترس کتا بھی ضرور دیکھا ہوگا، اس کے جسم میں تپّسیا کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں، جب چلتا ہے تو اس مسکینی اور عجز سے گویا بارگناہ کا احساس آنکھ نہیں اٹھانے دیتا۔ دم اکثر پیٹ کے ساتھ لگی ہوتی ہے۔ سڑک کے بیچوں بیچ غوروفکر کے ليے لیٹ جاتا ہے اور آنکھیں بندکرلیتا ہے۔ شکل بالکل فلاسفروں کی سی اور شجرہ دیوجانس کلبی سے ملتا ہے۔ کسی گاڑی والے نے متواتر بگل بجایا، گاڑی کے مختلف حصوں کو کھٹکھٹایا، لوگوں سے کہلوایا، خود دس بارہ دفعہ آوازیں دیں تو آپ نے سرکو وہیں زمین پر رکھے سرخ مخمور آنکھوں کو کھولا ۔ صورت حال کو ایک نظر دیکھا، اور پھر آنکھیں بند کرلیں۔ کسی نے ایک چابک لگا دیاتو آپ نہایت اطمینان کے ساتھ وہاں سے اُٹھ کر ایک گز پرے لے جالیٹے اور خیالات کے سلسلے کو جہاں سے وہ ٹوٹ گیا تھا وہیں سے پھر شروع کردیا۔ کسی بائیسکل والے نے گھنٹی بجائی، تو لیٹے لیٹے ہی سمجھ گئے کہ بائیسکل ہے۔ ایسی چھچھوری چیزوں کے ليے وہ راستہ چھوڑ دینا فقیری کی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔
رات کے وقت یہی کتا اپنی خشک، پتلی سی دم کو تابحد امکان سڑک پھیلا کر رکھتا ہے۔ اس سے محض خدا کے برگزیدہ بندوں کی آزمائش مقصود ہوتی ہے۔ جہاں آپ نے غلطی سے اس پر پاؤں رکھ دیا، انہوں نے غیظ وغیب کے لہجہ میں آپ سے پرشش شروع ےکردی، "بچہ فقیروں کو چھیڑتا ہے، نظر نہیں آتا، ہم سادھو لوگ یہاں بیٹھے ہیں"۔ بس اس فقیر کی بددعا سے سے اسی وقت رعشہ شروع ہوجاتا ہے۔ بعد میں کئی راتوں تک یہی خواب نظر آتے رہتے ہیں کہ بےشمار کتے ٹانگوں سے لپٹے ہوئے ہیں اور جانے نہیں دیتے۔ آنکھ کھلتی ہے تو پاؤں چارپائی کی ادوان میں پھنسے ہوتے ہیں۔
اگر خدا مجھے کچھ عرصے کے ليے اعلیٰ قسم کے بھونکنے اور کاٹنے کی طاقت عطا فرمائے، تو جنون انتقام میرے پاس کافی مقدار میں ہے۔ رفتہ رفتہ سب کتے علاج کے ليے کسولی پہنچ جائیں۔ ا یک شعر ہے:
عرفی تو میندیش زغو غائے رقیباں
آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
یہی وہ خلاف فطرت شاعری ہے، جو ایشیا کے ليے باعث ننگ ہے، انگریزی میں ایک مثل ہے، کہ "بھونکتےہوئے کتے کاٹا نہیں کرتے" یہ بجا سہی۔ لیکن کون جانتا ہے، کہ ایک بھونکتا ہوا کتا کب بھونکنا بند کردے، اور کاٹنا شروع کردے!
* * *
اہل سنت والجماعت کا مختصر تعارف
|
Subscribe to:
Posts (Atom)
